حیدر قریشی کی نظمیں

Friday, December 16, 2005

بہار کے پہلے دن

بہار کے پہلے دن

مِری آنکھوں کی برساتیں

جوشب بھرتِےرگی سے بجلی کے کوندوں

کے ملنے اور بچھڑنے کا تسلسل دیکھ کر

اپنے سبھی دکھ بھول بیٹھی تھیں

تری مہکی ہوئی زلفوں کو

اور ہنستے ہوئے ہونٹوں کواس کی کیا خبر ہوگی

خزاں کی آخری ہچکی

بہار آ نے کی پہلی چاپ سے ملنے لگی

تو میری آنکھوں کی گھٹاؤں نے گواہی دی

مگر جب صبح دم سورج نے اپنی نرم کرنوں سے

دھنک کے رنگ بکھرائے

تو آنکھوں پر کھُلاجانم

خزاں کی آخری ہچکی

بہار آنے کی پہلی چاپ سے جب تک نہیںملتی

خزاں جاہی نہیں سکتی، بہار آہی نہیں سکتی

میں اپنی آخری ہچکی پہ ہوں

اب جلد آ جاؤ!

0تبصرہ جات:

Post a Comment

<< واپس: