یہ دل
یہ دل
کبھی یہ قرب کے لمحوں میں
فرقت کی سزا مانگے
کبھی یہ ہجر کے عالم میں
وصلِ جاوداں چاہے
کبھی یونہی اُداسی میں گھر اہو
اور یونہی ہنس پڑے....پھر
پاگلوں کی طرح بس ہنستا چلاجائے
ہنسے اتنا کہ میری آنکھ سے
آنسوڈھلک آئیں
مِری آنکھوں میں آنسو دیکھتے ہی
آپ بھی بے ساختہ رونے لگے
روتا چلاجائے
میں ہنسنے اور رونے کا سبب
کیا جان پاؤں گا
تمہارے ہجر کی ساعت ہوچاہے وصل کا لمحہ
مگر یہ دل،
یہ پاگل دل، سمجھ میں ہی نہیں آئے

0تبصرہ جات:
Post a Comment
<< واپس: