حیدر قریشی کی نظمیں

Friday, December 16, 2005

یہ دل

یہ دل

کبھی یہ قرب کے لمحوں میں

فرقت کی سزا مانگے

کبھی یہ ہجر کے عالم میں

وصلِ جاوداں چاہے

کبھی یونہی اُداسی میں گھر اہو

اور یونہی ہنس پڑے....پھر

پاگلوں کی طرح بس ہنستا چلاجائے

ہنسے اتنا کہ میری آنکھ سے

آنسوڈھلک آئیں

مِری آنکھوں میں آنسو دیکھتے ہی

آپ بھی بے ساختہ رونے لگے

روتا چلاجائے

میں ہنسنے اور رونے کا سبب

کیا جان پاؤں گا

تمہارے ہجر کی ساعت ہوچاہے وصل کا لمحہ

مگر یہ دل،

یہ پاگل دل، سمجھ میں ہی نہیں آئے

یہ دل ہے یا کوئی کردار اگلی داستانوں کا!

0تبصرہ جات:

Post a Comment

<< واپس: