حیدر قریشی کی نظمیں

Friday, December 16, 2005

سرسوں کا کھیت


سرسوں کا کھیت

یہ بے اَنت میدان

میدان میں کیاریاں

ہر کیاری میں ہریالیوں کی قطاریں

یہ پودوں کی ہریالیاں اپنی ساری نمو

پیلے پھولوں کو دے کر

انہیں اپنے سرپرسجائے ہوئے جھومتی ہیں

یہ ہریالیاں، یہ خوشی اور مسرت کے پیکر

مگر پیلے پھول ان پہ دکھ کا نشاں ہیں

خوشی اور دُکھ کے ملن کا

انوکھا سماں ہے

یہ بے انت میدان

سرسوں کے سرسبزپودوں سے‘

پودوں پہ پھولوں سے

غم اور خوشی سے اَٹا ہے

مرے دل کے نزدیک آؤ تو دیکھو یہ میدان کیا ہے!

0تبصرہ جات:

Post a Comment

<< واپس: