حیدر قریشی کی نظمیں

Friday, December 16, 2005

ایک خواہش کی موت

ایک خواہش کی موت

وہ اک بھولی بھالی سی صحرائی خواہش

جو اِس دل کے صحرا میں بستی تھی

آنکھوں میں اُمید کی روشنی کے دیئے سے جلاتی

کبھی دل کے زَم زَم سے چھینٹے اُڑاتی

وہ میرے ہی چھینٹوں سے مجھ کو بھگوکر جوہنستی

تو جیسے مِرے دل کا صحرا

کھجوروں کے سرسبز میٹھے پھلوں والے

اونچے درختوں کی ٹھنڈک میں

ساری بہاریں سمیٹے ہوئے مسکراتا

مِرے دل کا صحرا کھجوروں کے سرسبز

میٹھے پھلوں والے

اونچے درختوں کی ٹھنڈک میں ساری بہاریں

سمیٹے ہوئے مسکراتاتو دہکے ہوئے گرم سورج

کے سینے میں بھی پھول سے کھلنے لگتے

مگر ایک دن کیا ہوا

جانے کیسے ہوا

وہی بھولی بھالی سی صحرائی خواہش

مجھے چھوڑ کر چاند میں جابسی

پتھروں کے نگر میں وہ جاتے ہوئے

میرے صحرائے دل کو بھی ہمراہ لیتی گئی

اس کے بدلے میں وہ مہرباں

میری آنکھوں کو کوئی سمندر عطا کرگئی

تب سے آنکھوں کو بخشاہوا یہ سمندر

سدا چاند کی سمت

امنڈتا، چھلکتا

ہمکتاہی رہتا ہے!

0تبصرہ جات:

Post a Comment

<< واپس: