حیدر قریشی کی نظمیں

Friday, December 16, 2005

تیامت

تیامت

( Tiamat(قدیم عراق)سمیری دیو مالا کی ایک سمندری بلا کا نام تھا)


یہ سنتے تھے

سمندر سے نکل کر

وہ کبھی اوپر چلی


آتی

تو خشکی کے مکینوں کے لئے

ویرانیاں، بربادیاں لاتی

وہ مظہر تھی ، ہلاکت اور تباہی کا

سبھی مجبور لوگوں پر ستم ڈھاتی

سبھی مقہور لوگوں سے کراتی

احترام اپنا، وہ جابر

قوت وطاقت پہ نازاں

نشہء تقدیس میں

ڈوبی ہوئی ، جب

جھومتی جاتی

ہلاکت اور بربادی کے منظر پھیلتے جاتے

یہ سنتے تھے، مگر اب دیکھتے بھی ہیں

کئی صدیوں تلک سوئی ہوئی، کھوئی ہوئی

جابر تیامت جاگ اٹھی ہے

ہلاکت خیز قوّت اور عظمت کے نشے میں جھومتی

قاہر تیامت ساحلِ مغرب سے نکلی ہے

سمیری سرزمیں کو اب کے اُس نے

صرف خشکی اور پانی ہی نہیں

ساری فضا سے، ہر طرف سے ہر جگہ سے

گھیر رکھاہے!

0تبصرہ جات:

Post a Comment

<< واپس: