حیدر قریشی کی نظمیں

Friday, December 16, 2005

بے فیض موسم کا دکھ

بے فیض موسم کا دکھ

اَسیرِ انا سے کوئی بھی

توقع عبث ہے

وہ صرف اپنی جھوٹی اَنا،

خود پسندی کاقائل

مگر میں کہ اپنی اَنا کا بھی منکر

مِرے عشق میں جسم سے رُوح تک جذب ہوکر

فنا میں بقا کی حقیقت کے مفہوم ومعنی نہاں

خوشبوئیں

جذب ہوکے ہواؤں میں

اپنا سبھی کچھ

ہواؤں کو جب سونپ دیتی ہیں

پھیلی ہوئی وسعتوں میں

مہکتی فضاؤں کی صورت

”نہ ہونے “ میں”ہونے“ کا عرفان کرتی ہیں

لیکن جو ا پنی سبھی خوشبوئیں

اپنے اندر سمیٹے

خود اپنی ہی خوشبو میں سرشار ہے

جانتا ہی نہیں ہے

کہ خوشبو جو اندر ہی سمٹی رہے

توپھر آخر وہ گہرے تعفّن میں ڈھل کر

دلوں کی معطر فضائیں بھی مسموم کرتی ہے

اب اس اسیرِ انا کو جب اس کی خبر بھی نہیں ہے

تو پھر اس سے حیدر

کوئی بھی توقع عبث ہے!

0تبصرہ جات:

Post a Comment

<< واپس: