حیدر قریشی کی نظمیں

Friday, December 16, 2005

نئی شالاط

نئی شالاط

وہ شہد اور زہر میں گوندھے ہوئے

سوئے ہوئے سارے زمانے جاگ اٹھے ہیں

ہماری داستاں تو داستاں درداستاں کا سلسلہ سا ہے

مگر اس بار لگتا ہے کہانی ہی نرالی ہے

نہ اب وہ آریاؤں کے ہلاکت خیز حملے ہیں

نہ دشتِ قیس ہے ،نَے خسرو پرویز کے حیلے

نہ اب تھل کا سفر درپیش، نَے تختِ ہزارہ ہے

نہ اب گجرات کی جانب رواں جانِ بخارا ہے

فقط میں ہوں!

فقط میں ہوں اکیلا‘ تنہا اپنے آپ سے بچھڑا ہوا

پھر بھی تمہاری سادگی کے حُسن میں

یکجا ہوئے جاتے ہیں

لیلیٰ ، شیریں، سسی،ہیر اور سوہنی کے سب جلوے

تمہاری آریائی روح جیسے سرزمینِ دل پہ

پیہم حملہ آور ہے

مگر یہ کیسے حملے ہیں

مسیحائی کی بھی تاثیر رکھتے ہیں

0تبصرہ جات:

Post a Comment

<< واپس: