حیدر قریشی کی نظمیں

Friday, December 16, 2005

عجیب دشمن

عجیب دشمن

بہت پہلے

کبھی اس نے بڑے مدھم مگر شفاف لہجے میں

کہا تھا مجھ سے

میرے نائنٹی نائین پائنٹ نائین نائین پرسنٹ

سچے جذبے تیری چاہت کی امانت ہیں

محبت میں ریاضی کی یہ تک بندی

مجھے ہر گزنہ بھائی تھی

میں چُپ تو ہوگیا لیکن

وہ اس کا پوائنٹ زیروون

جو اس نے میرے سوفیصد سے منفی کرکے

خود ہی رکھ لیا

میری نظر میں چبھ گیا، چبھتاگیا

وہ پائنٹ زیروون جذبہ

مِراد شمن

میں اُس سے خوف کھاتاتھا

پھر اک دن یوں لگا

جیسے وہ پائنٹ زیروون بڑھنے لگا

اور بڑھتے بڑھتے خود مرے حصے کے

نائنٹی نائین پائنٹ نائین نائین

سچے جذبوں پر بھی حاوی ہوگیا

ہمارے برج

جدی اور جوزا بھی پھر اس کے دائرے میں


Èگئے

جدی کی جوزا سے جوازلی کشمکش ہے

یوں اُبھرآئی

محبت گم ہوئی

جھنجھلاہٹیں، جھلاہٹیں،طعنے، گلے، شکوے

کبھی خاموش لفظوں میں، کبھی کچھ تیز لہجے میں

ہم اب اک دوسرے کے سخت دشمن تھے

مِرا یہ حال تھا

میں اُس کی صورت دیکھنے کو بھی نہ راضی تھا

کچھ ایسا حال اُس کا تھا

اسی حالت میں کتنے دن

کئی صدیوں کی صورت ہم پہ بیتے تھے

پھر اک دن میںنے ہی جانا

کھرے سونے کی بھی اور

چینی میں Sucroseکی اپنی

اور یجنلPurity بھی

نائنٹی نائن پائنٹ نائن نائن پرسنٹ ہے

تبھی مجھ پر ہوا یہ منکشف

کہ اُس کی چاہت تو کھرا سونا ہے

خالص، صاف اور شفاف چینی ہے

مِرے اُس سے سبھی شکوے، گلے جاتے رہے

وہ خودبھی راضی ہوگیا

جدی کی اور جوزا کی ازلی کشمکش بھی

حےرتوں میں کھوگئی

لیکن وہیں اگلے ہی لمحے

پھر بدل کررہ گئے منظر

وہی جھنجھلا ہٹیں، جھلاہٹیں

شکوے، گلے، طعنے

کبھی خاموش لفظوں میں ، کبھی کچھ تیز لہجے میں

مگر میں دشمنی کے سخت لمحوں میں بھی

یہ سمجھا نہیںاب تک

وہ دشمن کو ن ہے

جو اُس کی گہری جھیل سی آنکھوں سے

ہردم ہی مجھے اپنائیت،

لاانتہا اپنائیت کے ساتھ بس تکتا ہی رہتا ہے

جو مجھ سے پیار بھی کرتا ہے

اور دشمن بھی ہے میرا

عجب دشمن ہیں ہم دونوں !

0تبصرہ جات:

Post a Comment

<< واپس: