حیدر قریشی کی نظمیں

Friday, December 16, 2005

چاند کی تسخیر کے بعد

چاند کی تسخیر کے بعد

لفظوں کو جستجو ہوئی اپنے وجود کی

مفہوم اپنے رشتے نئے ڈھونڈنے لگے

معنوں کی اک بساط بھی بچھنے لگی نئی

محبوب کے حوالے سے تفہیم چاند کی

اب صرف ایک قصہءپارینہ بن گئی

ایٹم کے دَور نے ہر اک شے کو بدل دیا

تہذیب ِنَو کے نام پہ قدریں بدل گئیں

حسِ لطیف مٹ گئی ، انسان پٹ گئے

یہ دُور سے چمکتا ہوا چودھویں کا چاند

دراصل پتھروں کا اک ایسا طلسم ہے

جو اس کی چاندنی کے سرابوں میں تیر کر

پہنچے وہاں تو روح بھی پتھرا کے رہ گئی

لیکن میں اپنے دور سے بالکل الگ تھلگ

اور اپنے نظریات کو بھی رکھ کے اک طرف

لفظوں کے وہ پرانے مفاہیم چوم کر

سوچوں تو تیرا چاند سا چہرہ دکھائی دے

میں ڈوب جاتا ہوں تری کرنوں کے نُور میں

تیری نگاہوں سے یوں اُمڈتی ہے چاندنی

لیکن میں جانتا ہوں کہ تُو صرف چاند ہے

وہ چاند جس کا دل ہے فقط پتھروں کا ڈھیر

ڈرتا ہو ںتیرے قُرب سے پتھرانہ جاؤں میں

میں چاہتا ہوں صرف تجھے سوچتا رہوں

جب جانتا ہوں دل ترا ہے پتھروں کا ڈھیر

پھر آئینہ ءروح کیوں ٹکراؤں گا بھلا؟

تسخیر کرکے میں تجھے کیا پاؤں گا بھلا؟

اچھا ہے تجھ کو دور سے ہی دیکھتا رہوں

اچھا ہے تجھ کو دور سے ہی سوچتا رہوں!

0تبصرہ جات:

Post a Comment

<< واپس: