حیدر قریشی کی نظمیں

Friday, December 16, 2005

فاصلوں میں ملاپ

فاصلوں میں ملاپ

ترے ہاتھوں کی مہندی اور تری نیند یں

مِری آکھوں کی سرخی اور میرے رَتجگے

بے شک ہمارے درمیاں جو فاصلے ہیں

اُن کے ہونے کی شہادت ہیں

ہمارے فاصلے پھیلیں یا سمٹیں

پرحدیں قائم ہی رکھتے ہیں

سمٹ کر بھی کبھی یہ قرب کی لذت نہیںدیتے

مگر ان فاصلوں کے درمیاںاک گھر بھی آتا ہے

مری آنکھوں کی سرخی

اور ترے نازک سے ہاتھوں پر سجی مہندی

تری نیندوںکی لذت

اور میرے ر َتجگے

اِن فاصلوں کے درمیاں ملتے ہی رہتے ہیں!

0تبصرہ جات:

Post a Comment

<< واپس: