حیدر قریشی کی نظمیں

Friday, December 16, 2005

صدا کا سمندر

صدا کا سمندر

فضا میں سمندر کی لہروں سی آواز ہے

سمندر کے ساحل سے اس وقت میں

سینکڑوں میل کے فاصلے پہ ہوں، پھر

یہ فضا میں سمندر کی لہروں کی موسیقی

کیوں نشرہوتی چلی جارہی ہے

انوکھی صدائیں امنڈتی چلی آرہی ہیں

مِری رُوح پر چھارہی ہیں

دسمبر کی یخ بستہ صبحوں میں

سورج نکلنے سے پہلے، فضا میں

پہاڑوں کے کووّں کی ڈاریں اڑی جارہی ہیں

انہیں کی صدائیں

سمندر کی لہروں کی میٹھی،

سریلی صداؤں میں ڈھل کے

پہاڑوں کے دامن میں

الہام بن کر اترتی چلی جاتی ہیں

اور میں اس فضا میں، صداکے سمندر میں

پرواز کرتا ہوا تَیرتا جارہا ہوں!

0تبصرہ جات:

Post a Comment

<< واپس: