حیدر قریشی کی نظمیں

Friday, December 16, 2005

عمرِ گریزاں ‘۔۔’دعائے دل ‘اور’درد سمندر‘کی نظمیں

حیدر قریشی

خلا

کبھی تم دل میں بستے تھے

تو آنکھوں میں

کہیں اندر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہاریں مسکراتیں‘

کہکشائیں رقص کرتی تھیں

زمین و آسماں میں

ایسی یکتائی کا عالَم تھا

خلا کیسا؟

کہیں اک درز تک بھی تو نہیں

معلوم ہوتی تھی

مگرپھر یوں ہوا، اک دن

دھماکہ سا ہوا کوئی

زمین وآسماں میں اک دوئی

پیدا ہوئی

پھر فاصلہ درفاصلہ

اک سلسلہ بنتا گیا

اور اب یہ عالَم ہے

بہاریں کھو چکی ہیں

کہکشائیں بجھ گئی ہیں

اور مِری آنکھوں میں

اک اندھا خلا ہے

ادور تک پھیلا ہوا، جس میں

لبوں پر ایک زخمی مسکراہٹ کو سجائے

چپ کھڑی ہے میری تنہائی،

او راس کے گرد

اک سفاّک سناٹا

مسلسل رقص کرتا ہے

درد

درد

گہرے سناٹے میں

دُور سے

کالے انجن کی سیٹی کی آواز آتی ہوئی

دل کو بھاتی ہوئی

اک لرزتی، سسکتی صدا

دُور ہوتے ہوئے

کسی تانگے کے گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز

تانگے کے پہیوں کی آواز سے مل کے

کوئی انوکھا سا جادو جگاتی ہوئی

دکھ کا احساس دیتے ہوئے

دُور ہوتے ہوئے

منظروں کی صدا

چوڑیوں کی چھنک

ٹوٹتی چوڑیوں کی چھنک

زخم خوردہ مگر مسکراتے ہوئے

گیت گاتی چھنک

بانسری کی دُکھی اور سُریلی صدا

سَرخوشی اور دُکھ کے رَچاؤسے

دل میں کچھ ایسے اترتی ہوئی

جیسے الہام ہو

یہ ساری صدائیں مِری آشنا ہیں

مجھے جانتی ہیں

میں اِن سب کو پہچانتاہوں

متاعِ فقیراں۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ سب میرے دردوں کی آوازہےں

درد

جو میرے مونس ہیں

ماں جائے ہیں!

ایک اداس کہانی

ایک اداس کہانی

یہ کیسی دُھند سی پھیلی ہے

میرے چار سُو

کچھ بھی نظر آتانہیں

چاروں طرف مہکے ہوئے، پھیلے ہوئے

شادابیوں، زر خیزیوں کے

کتنے ہی منظر ہیں

لیکن دُھند نے سارے مناظر

اپنے دامن میں کچھ اِس ڈَھب سے چھُپائے ہیں

مری نظریں کسی منظر کو بھی چھو ہی نہیں پاتیں

مگر کانوں میں سارے منظروں کی

مدھ بھری جھنکار پےہم گونجتی ہے

کوئی انجانی (یا شاید جانی پہچانی سی)

راحت بخشتی ہے

صدا جھنکار اور چہکار کی صورت

رگِ جاں تک اُترتی ہے،لہو میں بولتی ہے

روح میں رس گھول دیتی ہے

مگر دل میں نہیں آتی

کہ دل کے دیس میں آنے کے سارے راستے

آنکھوں سے آتے ہیں

یہ کیسی دُھند ہے جس نے مجھے تقسیم کرکے رکھ دیا ہے

مِرا دل میری جاں کی

اور مِری جاں، میرے دل کی جستجو میں ہے

مگر دونوں میں کوئی ربط ہو پایا نہیںجیسے

عجب سی دُھند پھیلی ہے

سبھی منظر صدا کے رُوپ میں ہی مجھ سے ملتے ہیں

یہ دلکش دُھند

دو قطروں کی صورت

جب سے اِن پلکوں پہ ٹھہری ہے!

ہوا سفاّک لہروں کی طرح

یخ بستہ تِیروں سے مسلسل حملہ آور ہے

میں اپنے بند کمرے میں مسہری پر

رضائی لے کے بیٹھا ہوں

مِری بیوی مِرے پہلو میں بیٹھی ہے

شعیب، عثمان، ٹیپو، مانو، رضوانہ‘

ہمارے سامنے

پہلو

بہ پہلو دائرے کی شکل میں بیٹھے

ہماری مُورتیں ہم کو دکھاتے ہیں

ہمارا گمشدہ بچپن ہمارے سامنے

ان پانچ رنگوں میں چہکتا ہے

پھاگن کی سفاک ہوا

ہوا سفاک لہروں کی طرح

یخ بستہ تیروں سے مسلسل حملہ آور ہے

کبھی تیروں کی اک بوچھار سی

جب بند دروازے پہ پڑتی ہے تو بچے

ایک لحظے کے لئے خوف اور حیرت سے

ہمارے منہ کو تکتے ہیں

اور اپنے آپ ہی پھر کھلکھلا کر ہنس بھی پڑتے ہیں

اگر اس وقت پھاگن کی ہوا سفاّک نہ ہوتی

تو میں اس بند کمرے میں

حَسیں بچپن کے ایسے جگمگاتے

اور سہانے دن کہاں پاتا

جہاں گردی کے چکر میں

ہمیشہ کی طرح کھویا ہوا ہوتا

یہ پھاگن کی ہوا سفاک بھی ہے مہرباں بھی ہے!

تمھارے لۓ ایک نظم

تمھارے لۓ ایک نظم

تمہیں پانے کی خواہش

صرف خواہش ہی نہیں جاناں

تمہارے اِن لب ورُخسار کی سُرخی پہ

میری شاعری کے سب دَمکتے رنگ بکھرے ہیں

طلسم ِ حرف کے جو اِسم بھی ہیں

سب تمہاری آنکھ کے جادُو میں بستے ہیں

مِرے مفہوم او رمعنی تمہاری رُوح میں پنہاں

تمہیںپانے کی خواہش

صرف خواہش ہی نہیںجاناں!

مجھے اپنے ادھورے پن کی بھی تکمیل کرنی ہے

تمہارے بارے میں ہر سوچ پرمیں نے

دعاؤں کے نہ جانے کتنے اندھے کرب جھیلے ہیں

بس اِس اُمید پر

یہ کرب اک دن روشنی بھی لے کے آئیں گے

تمہیں لیکن کوئی احساس تک بھی تو نہیں شاید!

چلو آؤ.... مری آنکھوں میں تھوڑا جھانک کر دیکھو

کہ آنکھیں سچ ہی کہتی ہیں

تمہیں یہ خود بتائیں گی کہ میں نے تم کو پانے کی

دعائیں مانگنے کے جتنے اندھے کرب جھیلے ہیں

تمہاری ہی عطائیں ہیں

اور ان کی آنے والی روشنی بھی تو

تمہیں پانے کی حیرت زا بشارت سے عبارت ہے

سنو جاناں !

اب اپنے حُسن کے رنگوں سے میری شاعری بھردو

اب اپنی آنکھ کے جادُو کے سارے اسم

مجھ پرکھول کر

مجھ کو طلسمِ حرف کے اسرار سکھلاؤ

مِرے معنی، مِرے مفہوم بھی مجھ کو عطا کردو

مِرے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دو

نزدیک آجاؤ!

چاند کی تسخیر کے بعد

چاند کی تسخیر کے بعد

لفظوں کو جستجو ہوئی اپنے وجود کی

مفہوم اپنے رشتے نئے ڈھونڈنے لگے

معنوں کی اک بساط بھی بچھنے لگی نئی

محبوب کے حوالے سے تفہیم چاند کی

اب صرف ایک قصہءپارینہ بن گئی

ایٹم کے دَور نے ہر اک شے کو بدل دیا

تہذیب ِنَو کے نام پہ قدریں بدل گئیں

حسِ لطیف مٹ گئی ، انسان پٹ گئے

یہ دُور سے چمکتا ہوا چودھویں کا چاند

دراصل پتھروں کا اک ایسا طلسم ہے

جو اس کی چاندنی کے سرابوں میں تیر کر

پہنچے وہاں تو روح بھی پتھرا کے رہ گئی

لیکن میں اپنے دور سے بالکل الگ تھلگ

اور اپنے نظریات کو بھی رکھ کے اک طرف

لفظوں کے وہ پرانے مفاہیم چوم کر

سوچوں تو تیرا چاند سا چہرہ دکھائی دے

میں ڈوب جاتا ہوں تری کرنوں کے نُور میں

تیری نگاہوں سے یوں اُمڈتی ہے چاندنی

لیکن میں جانتا ہوں کہ تُو صرف چاند ہے

وہ چاند جس کا دل ہے فقط پتھروں کا ڈھیر

ڈرتا ہو ںتیرے قُرب سے پتھرانہ جاؤں میں

میں چاہتا ہوں صرف تجھے سوچتا رہوں

جب جانتا ہوں دل ترا ہے پتھروں کا ڈھیر

پھر آئینہ ءروح کیوں ٹکراؤں گا بھلا؟

تسخیر کرکے میں تجھے کیا پاؤں گا بھلا؟

اچھا ہے تجھ کو دور سے ہی دیکھتا رہوں

اچھا ہے تجھ کو دور سے ہی سوچتا رہوں!

میں پھرآنسوؤں کا گلا گھونٹ دوں گا

میں پھرآنسوؤں کا گلا گھونٹ دوں گا

(زبیدہ کی رخصتی کے بعد)

تصور کے اُجلے دریچے سے میں نے

غم ِزندگی کا جو پردہ ہٹایا

تو یادوں کی سرسبزوادی میں

بیتے دنوں کی ہزاروں حسین اور رنگین گھڑیاں

محبت کے پھولو ں کی صورت میں بکھری ہوئی تھیں

ہماری مقدس محبت کے رشتے

تناور درختوں کی صورت میں قائم کھڑے تھے

وہ بچپن، وہ کھیلیں........وہ جھگڑے، وہ چہلیں

وہ ہنسنا، ہنسانا ........ وہ رونا، رُلانا

وہ مل جل کے پڑھنا ........وہ لڑبھڑ کے کھانا

لڑکپن کے قصے ........جوانی کی باتیں

وہ ہنستے ہوئے دن ........ وہ مسرور راتیں

اسی طرح کے کتنے ہی پھول اب بھی

ہماری محبت کی طرح جواں ہیں

مگر میں انہیں

پھولوں کے ساتھ کانٹوں

کو پاکر ٹھٹک سا گیا ہوں

جدائی کے کانٹے!

مجھے یاد ہے سب

کہ میں ہر جدائی کے موقعہ پہ ہی

آنسوؤں کا گلا گھونٹ دیتا رہا ہوں

جدائی کے دکھ

اصل میں اس حقیقت کا اظہار ہیں

کہ پھولوں سے کانٹوں کا جب تک تعلق رہے گا

سبھی بہنیں ہی اپنے بھائیوں سے یونہی

بچھڑتی رہیں گی

تصور کے اجلے دریچے کے پردے

ابھی تک ہٹے ہی ہوئے ہیں

مِری چاروں سمت اپنی بہنو ں کی چاہت

کے پھولوں کی خوشبو بسی ہے

میں آنسوؤں کا گلا گھونٹنا بھی نہیں چاہتا

کیونکہ یادوں کی سرسبزوادی میں

بارش کا دلکش نظارہ بھی تو دیکھنا چاہتا ہوں

مگر اب بھی پھر اُس گھڑی

جب مری دوسری بہنیں بچھڑیں گی مجھ سے

میں پھرآنسوؤں کا گلا گھونٹ دوں گا!