حیدر قریشی کی نظمیں

Friday, December 16, 2005

پھاگن کی سفاک ہوا

ہوا سفاک لہروں کی طرح

یخ بستہ تیروں سے مسلسل حملہ آور ہے

کبھی تیروں کی اک بوچھار سی

جب بند دروازے پہ پڑتی ہے تو بچے

ایک لحظے کے لئے خوف اور حیرت سے

ہمارے منہ کو تکتے ہیں

اور اپنے آپ ہی پھر کھلکھلا کر ہنس بھی پڑتے ہیں

اگر اس وقت پھاگن کی ہوا سفاّک نہ ہوتی

تو میں اس بند کمرے میں

حَسیں بچپن کے ایسے جگمگاتے

اور سہانے دن کہاں پاتا

جہاں گردی کے چکر میں

ہمیشہ کی طرح کھویا ہوا ہوتا

یہ پھاگن کی ہوا سفاک بھی ہے مہرباں بھی ہے!

0تبصرہ جات:

Post a Comment

<< واپس: