حیدر قریشی کی نظمیں

Friday, December 16, 2005

تمھارے لۓ ایک نظم

تمھارے لۓ ایک نظم

تمہیں پانے کی خواہش

صرف خواہش ہی نہیں جاناں

تمہارے اِن لب ورُخسار کی سُرخی پہ

میری شاعری کے سب دَمکتے رنگ بکھرے ہیں

طلسم ِ حرف کے جو اِسم بھی ہیں

سب تمہاری آنکھ کے جادُو میں بستے ہیں

مِرے مفہوم او رمعنی تمہاری رُوح میں پنہاں

تمہیںپانے کی خواہش

صرف خواہش ہی نہیںجاناں!

مجھے اپنے ادھورے پن کی بھی تکمیل کرنی ہے

تمہارے بارے میں ہر سوچ پرمیں نے

دعاؤں کے نہ جانے کتنے اندھے کرب جھیلے ہیں

بس اِس اُمید پر

یہ کرب اک دن روشنی بھی لے کے آئیں گے

تمہیں لیکن کوئی احساس تک بھی تو نہیں شاید!

چلو آؤ.... مری آنکھوں میں تھوڑا جھانک کر دیکھو

کہ آنکھیں سچ ہی کہتی ہیں

تمہیں یہ خود بتائیں گی کہ میں نے تم کو پانے کی

دعائیں مانگنے کے جتنے اندھے کرب جھیلے ہیں

تمہاری ہی عطائیں ہیں

اور ان کی آنے والی روشنی بھی تو

تمہیں پانے کی حیرت زا بشارت سے عبارت ہے

سنو جاناں !

اب اپنے حُسن کے رنگوں سے میری شاعری بھردو

اب اپنی آنکھ کے جادُو کے سارے اسم

مجھ پرکھول کر

مجھ کو طلسمِ حرف کے اسرار سکھلاؤ

مِرے معنی، مِرے مفہوم بھی مجھ کو عطا کردو

مِرے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دو

نزدیک آجاؤ!

0تبصرہ جات:

Post a Comment

<< واپس: