عمرِ گریزاں ‘۔۔’دعائے دل ‘اور’درد سمندر‘کی نظمیں
حیدر قریشی
خلا
کبھی تم دل میں بستے تھے
تو آنکھوں میں
کہیں اندر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہاریں مسکراتیں‘
کہکشائیں رقص کرتی تھیں
زمین و آسماں میں
ایسی یکتائی کا عالَم تھا
خلا کیسا؟
کہیں اک درز تک بھی تو نہیں
معلوم ہوتی تھی
مگرپھر یوں ہوا، اک دن
دھماکہ سا ہوا کوئی
زمین وآسماں میں اک دوئی
پیدا ہوئی
پھر فاصلہ درفاصلہ
اک سلسلہ بنتا گیا
اور اب یہ عالَم ہے
بہاریں کھو چکی ہیں
کہکشائیں بجھ گئی ہیں
اور مِری آنکھوں میں
اک اندھا خلا ہے
ادور تک پھیلا ہوا، جس میں
لبوں پر ایک زخمی مسکراہٹ کو سجائے
چپ کھڑی ہے میری تنہائی،
او راس کے گرد
اک سفاّک سناٹا
مسلسل رقص کرتا ہے

0تبصرہ جات:
Post a Comment
<< واپس: